semal-raja 43

خواتین کو قدم قدم پر مصائب و استحصال کا سامنا ہے ۔سیمل راجہ

خواتین کو قدم قدم پر مصائب و استحصال کا سامنا ہے ۔سیمل راجہ

ہمارے معاشرے میں خواتین گودسے گور تک دکھ سہتی ہیں۔سونیا نعمان
دنیا کے دیگر ممالک کے مقابلے میں پاکستان میں حقوق نسواں کی صورت حال انتہائی تشویشناک ہے شبنم اسلم
خواتین کے حقوق کے لئے کام کرنے والی تنظیم نیو ہوپ ویلفئیر آرگنائزیشن کے زیر اہتمام تقریب، مستحق خواتین میں راشن تقسیم کیا گیا

لاہور(پ-ر) حقوق نسواں کے نام نہاد علمبردار مرد طبقے کو روایتی تنقید کا نشانہ بناکر اپنی طرف سے گمان کر لیتے ہیں کہ ہم نے خواتین کو درپیش مسائل کا خاتمہ کر دیا جبکہ باریک بینی سے جائزہ لیا جائے تو صورتحال یکسر مختلف نظر آتی ہے، خواتین کے استحصال کے خاتمے کے لیے حقیقت کی تلاش ازحد ضروری ہے۔کیونکہ جب تک مرض کی وجوہات کا علم نہ ہوگا،کوئی بھی معالج بیماری کا علاج کرنے میں ناکام ٹھہرے گا،درست تشخیص کے بعد ہی علاج ممکن ہے.بچے کی پہلی درسگاہ ماں کی آغوش ہے اور اس کے بعدگھر اورماحول جہاں بچہ پرورش پاتا ہے۔بچے کے شعور میں خواتین کو کم تر سمجھنا،ان کو عزت نہ دینا اور اپنی مردانگی کی دھاک کبھی غیرت کے نام پر بٹھانا تو کبھی عورت کے ساتھ مار پیٹ کرنا جیسے رویے اسی ماحول سے جنم لیتے ہیں۔عورت کی مظلومیت کا ڈھول بہت پیٹا جاتا ہے مگر عورت اپنے دوغلے پن پر لمحہ بھر بھی غور نہیں کرتی ۔عورت نے خود یہ استحصال کا نظام اپنی منفی فکر اور دوغلے پن سے پیدا کیا ہے۔ان خیالات کا اظہار خواتین،بچوں اور خواجہ سراوں کے حقوق کے لئے کام کرنے والی تنظیم نیو ہوپ ویلفئیر آرگنائزیشن کی چئیرپرسن و سابق رکن اسمبلی سیمل راجہ نے تنظیم کے ضلعی دفتر کے افتتاح کے موقع پر کیا۔ ادارے کی سیکرٹری جنرل سونیا نعمان نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج عورت کی چیخ و پکار اور مظلومیت کی داستانیں عالمی سطح پر سنی جارہی ہیں۔ دنیا بھر میں تشدد کے بڑھتے ہوئے واقعات کے تدارک کے لیے عالمی برادری نے اس بات کو تسلیم کیا ہے کہ خواتین پرتشدد کے خاتمے کو ممکن بنا کر صنف نازک کے وجود کو بکھرنے سے بچایاجاسکتا ہے۔ادارے کے لیگل ایڈ سیل کی چئیر پرسن شبنم اسلم ایڈوکیٹ نے کہاکہ پاکستان میں کام کرنے کی جگہوں اور یونیورسٹیوں میں جنسی طور پر ہراساں کیا جانا، استحصال، اور تفریق عام ہے۔ ضروری نہیں کہ برا رویہ صرف جنسی ہو، تبھی اسے ہراساں کرنا تصور کیا جائے۔ حقیقت میں مرد باسز کی روز مرہ کی حرکات بھی خواتین ماتحتوں کے لیے کام کا ہتک آمیز ماحول پیدا کر دیتی ہیں۔ تقریب کے اختتام پر ادارے کی جانب سے مستحق خواتین میں راشن بھی تقسیم کیا گیا۔

خواتین کو قدم قدم پر مصائب و استحصال کا سامنا ہے ۔سیمل راجہ

جیمز اینڈ جیولری نمائش چودہ ستمبر سے اسلام آباد میں شروع ہو رہی ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں