cnic 74

قومی شناختی کارڈ کا حصول آسان

قومی شناختی کارڈ کا حصول آسان

نادرا نے قومی شناختی کارڈ کے حصول یا اس میں رد و بدل کے سلسلہ میں نئی پالیسی جاری کرتے ہوئے غیر ضروری دستاویزات اور بعض شرائط ختم کرنے کا جو فیصلہ کیا ہے، بجا طور پر اس اقدام سے محکمہ کے اندر اور باہر بعض مسائل کی حوصلہ شکنی ہو گی۔ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے اس دور میں دنیا بھر کے ممالک پیپر ورک کو رفتہ رفتہ کم سے کم کر رہے ہیں، یہ وقت کی ضرورت ہے، اس سے ایسی بہت سی قباحتیں ختم ہوں گی جس کے لئے شہریوں کو کورٹ کچہریوں میں نہ صرف بہت وقت صرف کرنا پڑتا ہے بلکہ بدعنوانی کی شکل میں بہت سے مسائل کا سامنا رہتا ہے۔ نئی پالیسی کے تحت شناختی کارڈ میں بیوی کا نام درج کروانے کے لئے نکاح نامے کی شرط ختم کر دی گئی ہے۔ اب صرف مرد کے فنگر پرنٹس لے کر اس کی بیوی کا نیا شناختی کارڈ بنا دیا جائے گا۔ تاریخِ پیدائش کے اندراج کے لئے اب کمپیوٹرائزڈ برتھ سرٹیفکیٹ پیش کرنا لازمی نہیں رہا۔ اس سے بلدیاتی اداروں میں ہونے والی بدعنوانی کی حوصلہ شکنی ہو گی۔ شناختی کارڈ میں نام کی تبدیلی کے لئے 20روپے کا بیان حلفی کافی ہو گا، اس ضمن میں گریڈ 17کے آفیسر کی متعلقہ کاغذات کی تصدیق کے لئے شرط ختم کر دی گئی ہے، اس رو سے شناختی کارڈ کے کاغذات کی تصدیق ہر شناختی کارڈ ہولڈر اپنے کارڈ کے حوالے سے کر سکتا ہے، اسی طرح تبدیلی نام کا اشتہار چھپوانے کی پابندی بھی ختم کر دی گئی ہے۔ نادرا کے ان اقدامات سے محکمہ کے اندر کام کی رفتار میں تیزی آئے گی اور شناختی کارڈ کے دفاتر کے باہر رش میں کمی آسکے گی۔ اس کے ساتھ ساتھ بعض دوسرے محکموں میں بھی ایسے بہت سے امور ہیں جہاں دستاویزی شرائط نرم یا ختم کرنے کی ضرورت ہے۔ اس وقت عالمی رجحانات کے تناظر میں وطن عزیز میں جملہ سرکاری امور ساٹھ ستر فیصد تک کمپیوٹرائزڈ ہو چکے ہیں، نادرا کی متذکرہ پیشرفت خوش آئند ہے۔ امیدِ واثق ہے کہ وطن عزیز میں جہاں تک ممکن ہو سکا، غیر ضروری دستاویزی نظام کی حوصلہ شکنی ہو سکے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں