indian-occupied-kashmir 56

مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر عالمی تحقیقاتی کمیشن بھی قائم کیا جائے

مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر عالمی تحقیقاتی کمیشن بھی قائم کیا جائے
’’بھارت کرے گا تو پاکستان کرے گا‘‘ جیسی پالیسی نے کشمیر کازکو نقصان پہنچایا: ڈاکٹر شیریں مزاری
ترجمان دفتر خارجہ کی نوجوانوں کو نصیحت: بھارتیوں کو حقیقت پر قائل کریں نہ کے تلخی سے!

کشمیر کے حوالے سے منعقدہ ایک سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے مقررین کا کہنا تھا کہ وہ کشمیر میں بھارتی مقبوضہ افواج کی جانب سے بڑے پیمانے پرروزانہ کی بنیاد پر کی جانے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی بھرپور مذمت کرتے ہیں۔ انہوں نے اس بات کا بھرپور اظہار کیا کہ غیر قانونی اور مادّی طور پر تو ایک علاقے پر قبضہ کیا جا سکتا ہے لیکن کشمیریوں کے دل و دماغ پر قبضہ کرنا قطعاً ممکن نہیں۔ مقررین نے بہادر کشمیریوں کو خراجِ تحسین پیش کیا کہ کم و بیش گزشتہ 70 سالوں سے وہ آزادی کی جنگ لڑ رہے ہیں جو تا حصولِ آزادی جاری رہے گی۔
تقریب کا انعقاد YFKانٹرنیشنل کشمیر لابی گروپ(یوتھ فورم فار کشمیر) کی جانب سے’’بَیاددراندازیٔ کشمیر : جنگ بندی میں نوجوانوں کا کردار‘‘ کے زیرِ عنوان وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے اسلام آباد ہوٹل میں کیا گیا۔
وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق ڈاکٹر شیریں مزاری نے اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ بھارت ، مسئلہ کشمیر پرپاکستان کی کمزور سفارتکاری کی وجہ سے فائدہ اٹھا رہا ہے،۔ بھارت عالمی میڈیا اور تحقیقاتی اداروں کو بھارتی مقبوضہ کشمیر میں داخلے کی اجازت نہیں دیتا جس کی وجہ سے کشمیر میں ہونے والے مظالم کی خبر دنیا کو تاخیر سے ہوتی ہے۔ اِمسال جاری ہونے والی اقوام متحدہ کی کشمیر رپورٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے ان کا کہنا تھاکہ رپورٹ بہت اچھی ہے لیکن تاخیر سے پیش کی گئی۔ رپورٹ جاری کرنے سے پہلے اقوامِ متحدہ نے پاکستان سے درخواست کی تھی کہ ان کی ٹیم کو آزاد کشمیر کا دورہ کرنے کی اجازت دی جائے لیکن پاکستان نے یہ کہہ کر انکار کردیا کہ اگر بھارت، مقبوضہ کشمیر میں اقوامِ متحدہ کی ٹیم کو رسائی دے گا تو ہم بھی دے دیں گے، یہ پاکستان کی سفارتکاری کی بڑی غلطی تھی، ہمیں اس معاملے میں بھارت کے نقشِ قدم پر نہیں چلنا چاہیئے۔ انہوں نے پانچ نکاتی ایجنڈا پیش کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے عالمی تحقیقات کا مطالبہ کرنا چاہیئے جیساکہ اقوام متحدہ کی رپورٹ نے کیا ہے۔ ہمیں دنیا کے ہر فورم پر جا کر عالمی برادری کی توجہ اس جانب مبذول کروانی چاہیئے کہ بھارت کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں فوری بند کرے۔ ہمیں بین الاقوامی تنظیموں سے رابطہ کرنا چاہیئے جو متنازعہ علاقوں میں خواتین کے کردار پر کام کررہی ہیں۔ اقوامِ متحدہ کی رپورٹ ابھی تازہ ہے اور ہمیں اس میں پیش کردہ سفارشات کو دنیا کے سامنے پیش کرتے رہنا چاہیئے۔ ہمیں اقوام متحدہ کی قراردادوں پر قائم رہنا چاہیئے کیونکہ وہ ہی ہمارا قانونی راستہ ہیں، مشرقی تیمور کی قراردادیں اور کشمیر کی قراردادوں میں کوئی فرق نہیں، ہمیں اس پر عمل درآمد کی کوششیں جاری رکھنی چاہیئیں۔ ہمیں مطالبہ کرنا چاہیئے کہ اقوامِ متحدہ اپنے مبصرین کو بھارتی مقبوضہ کشمیر میں بحال کرے جیساکہ وہ آزاد جموں و کشمیر میں تاحال کام کر رہے ہیں۔
ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر محمد فیصل کا کہنا تھا کہ ہم بھارت سے ساتھ اچھے تعلقات کے خواہاں ہیں جس کا اظہار وزیر اعظم عمران خان پہلے بھی کر چکے ہیںکہ بھارت اگر ایک قدم آگے بڑھائے گا تو پاکستان دو قدم آگے آئے گا۔ وزیر اعظم عمران خان نے وزیر اعظم مودی کو خط بھی لکھا ہے جس میں انہوں نے دو طرفہ تعلقات، امن اور مسئلہ کشمیر کے حل پر زور دیا ہے۔ ڈاکٹر فیصل کا کہنا تھا کہ ہم کل کرتار پورہ راہداری کا افتتاح کر رہے ہیں جس سے بھارتی سکھ بغیر ویزے کے پاکستانی حدود میں اپنے مذہبی مقامات کا دورہ کرسکیں گے۔ بھارت اور پاکستان کے تعلقات سادہ نہیں ہیں، ہم ماضی میں جنگیں بھی کرچکے ہیںلیکن اب اکیسویں صدی میں سفارتکاری تبدیل ہوچکی ہے، سفارتکاری اب لوگوں کی رائے کا نام ہے۔ انہوں نے بتایا کہ دفتر خارجہ پاکستان کے اندر اور باہر کانفرنسز، مظاہرے، تصویری نمائشیں،سوشل میڈیا اور دیگر ذرائع سے مسئلہ کشمیر کو اجاگر کرنے میں کوشاں ہے۔اقوام متحدہ کی رپورٹ بہت بہترین اور جامع تھی ، ہم یہی باتیں گزشتہ 70سالوں سے کرتے آرہے ہیں۔حالیہ آنے والی برطانوی رپورٹ بھی اقوام متحدہ کی رپورٹ سے مطابقت رکھتی ہے۔ہم تمام بین الاقوامی تحقیقاتی اداروں کو خوش آمدید کہیں گے کہ وہ آزاد کشمیر کا دورہ کریں کیونکہ ہم نے بھارتی میڈیا کو بھی کبھی پاکستان آنے سے نہیں روکا، اس وقت بھی نہیں جب کلبھوشن یادو کی والدہ اور اہلیہ ان سے ملنے پاکستان آئی تھیں۔
YFKانٹرنیشنل کشمیر لابی گروپ(یوتھ فورم فار کشمیر) کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر احمد قریشی نے کہا کہ مسئلہ کشمیر میں تاحال تین سنگِ میل دیکھنے میں آئے ہیں: اقوامِ متحدہ کی قراردادیں، برہان وانی کی شہادت اور اقوامِ متحدہ کی 2018 رپورٹ۔ اِمسال نہ صرف اقوامِ متحدہ نے کشمیر میں استصوابِ رائے کا مطالبہ کیا ہے بلکہ یہ بھی کہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر عالمی تحقیقاتی کمیشن بھی قائم کیا جائے۔ بھارتی سفارتکاری اب دباؤ کا شکار ہے، یہ دباؤ بتدریج اب بڑھتا چلا رہا ہے۔ گزشتہ روز ناروے کے سابق وزیراعظم اور آسٹریلیا کی سابق سینیٹر کشمیر اور پاکستان کا دورہ کرچکے ہیں اور مسئلہ کشمیر کے حل میں اپنا کردارپیش کرنے کے خواہاں ہیں۔پاکستان کی مزید کوششوں سے مسئلہ کشمیر دنیا میں اجاگر ہوتا نظر آ رہا ہے اور پاکستان کی مسلسل کوششیں بار آور ثابت ہو رہی ہیں۔
YFKانٹرنیشنل کشمیر لابی گروپ(یوتھ فورم فار کشمیر) کی لابیسٹ شائستہ صفی نے بتایا کہ بحیثیت کشمیری وہ مسئلہ کشمیر کو کس نظر سے دیکھتی ہیںجبکہ وہ خود ایک جِلا وطنی کی زندگی گزار رہی ہیں۔ انہوں نے کشمیر میں گولیوں اور مخصوص چھروں سے متاثرہ افراد کی زندگیوںکی تلخی کو اجاگر کیا۔
جموں و کشمیرتحریکِ استصوابِ رائے یورپ کے چیئرمین راجہ نجابت حسین نے پاکستان سے باہر کی جانے والی اپنی کوششوں پر روشنی ڈالی اور شرکاء کو اپنی کارگزاری سے آگاہ کیا۔
تقریب میں اعلیٰ سرکاری آفیسران، سفارتکاروں، میڈیا، پالیسی سازوں اور یونیورسٹی طلباء نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔
کشمیر، اقوام متحدہ سلامتی کونسل کے ایجنڈے میں التواء پذیر ہے، لیکن اقوام متحدہ ماضی میں منظور کی گئی قراردادوں کے ساتھ ساتھ اب کشمیر میں ایک بین الاقوامی تحقیقات کا مطالبہ بھی کر رہی ہے۔
YFKانٹرنیشنل کشمیر لابی گروپ(یوتھ فورم فار کشمیر)، ایک غیر جانبداربین الاقوامی این جی او(NGO) ہے جو اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق مسئلہ کشمیر کے پُر امن حل کیلئے کوشاں ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں