urdu poetry 67

میں تمہیں الوداع کر رہا ہوں تحریر و آواز— فائزہ عباس

میں تمہیں الوداع کر رہا ہوں تحریر و آواز— فائزہ عباس

کبھی کبھی ۔ ۔ ۔ساتھ چلنے والے بھی اجنبی ہوتے ہیں ناں۔ ۔ ۔کبھی آنسان کب کے الوداع کہ چکے ہوتےہیں ۔ ۔ ۔کبھی ہم ساتھ چلنے والوں کو اجنبیت کے وہ گھونٹ امرت سمجھکر پلاتے چلے جاتے ہیں کہ جو ان سے زندگی چھین لیتے ہیں اور خالی وجود بوسیدہ اور دفنانے لائق رہ جاتے ہیں ۔ ۔ ۔کبھی کبھی کچھ بھی نہیں چاہییے ہوتا ۔ ۔ ۔اور کبھی کچھ بھی نہیں بچتا۔ ۔ کبھی ہم رفتہ رفتہ ختم ہو جاتے ہیں بالکل ایسے ہی جیسے کوئی مرنے والا رسی کے آخری سرے کو پکڑے مگر وہ گرفت کھودے ۔ ۔ ۔اور پھر اس کھائی میں جا گرے جہاں پر سے واپسی ہی ممکن نہ ہو شاید کہیں نہ کہیں ۔ ۔ ۔یہ سفر وہ ہی تھا جو اسکا آخری سفر تھا جسکے بعد اور سفر کی طلب تھی نہ خواہش ۔ ۔ ۔ ۔نہ ہںی تمنا نہ آرزو کی جھوٹی ڈوریاں۔ ۔ ۔ ہی درکار تھیں ۔ ۔ ۔میں سب کو مکمل توڑے جارہاں ہوں ۔ ۔ ۔ یہ کہتے کہتے وہ سوچ کے سمندر میں جیسے بہ سا گیا ۔ ۔ ۔اور جب انسان اس کے آخری گھونٹ پی چکے تو پھر نہ وہ آخری ہچکی سنائی دیتی ہے نہ ہی آخری سسکی ۔ ۔ ۔اور نہ ہی وہ آخری آنسو جو مرنے والے کی آنکھوں سے ٹپک سا جاتا ہے ۔ ۔ ۔ جس ایک آنسو میں بہت سے احساس ۔ ۔ ۔اور کرب جمع تھے مگر اس درد کی کیفیت کوئی جان نہ سکا ۔ ۔ ۔جب احساس کو کفن پہنا دیے جاتے ہیں اور روح خود دستبردار ہو جاتی ہے ہر اس وجود سے جو کبھی اسکا مسکن تھے تو کھونے والوں کو کھونے تک کا احساس نہیں ہوتا اور وہ سفر کی آخری ملاقات کو زندگی سمجھ لیتے ہیں ۔ ۔ ۔انسان بھی اکثر اپنوں کو ایسے ہی کھو دیتے ہیں کہ انہیں پتہ ہوتا کہ وہ کسے کب کتنی دور نکل آئے ہیں ۔ ۔ ۔اتنی دور کہ اس کی طوالت عبور نہیں ہو سکتی اور بس دور ہی سے دھندلی جھلک دکھائی دیتی ہے جس کی سمجھ نہیں آتی کہ وہ عکس تھا کہ حقیقت۔ ۔ ۔آج تمہیں بھی الوداع کر رہا ہوں اسی احساس کے ساتھ کہ شاید پھر ہم نہیں مل پاییں، نہیں سن پائیں ، نہیں دیکھ پائیں ۔ ۔ ۔مگر تمہارے سب احساس میں خود میں جذب کیے جا رہا ہوں تم کبھی مجھ سے جدا نہیں ہو گے ۔ ۔تمہارا ہر احساس، ہر جھلک، ہر بھلائی، ہر احسان، مجھ پر تمہارے قرض ہیں جنہیں میں چکا تو نہیں سکتا مگر میں انہیں بہت محبت سے کسی انمول اعزاز کی طرح سنبھال کر رکھوں گا۔ ۔ ۔تم جب بھی بلاؤ گے خود کے پاس پاو گے مگر مجھے تمہارے پاس اب نہ دیکھ پاؤ گے کہ میرے تمہارے سفر کے ربط و تعلق کی ڈوریاں بس اتنی تھیں کہ ہم یہاں تک ایک ساتھ ۔ ۔ ۔چل کر آگئے ۔ ۔ ۔اب آگے کا سفر مجھے تنہا ہی طے کرنا ہے بغیر کسی کی مدد اور سہارے کے ۔ ۔ ۔میں تمہیں کبھی اپنی مدد کے لیے اب نہیں پکاروں گا۔ ۔ ۔نہ کبھی اپنی کوئی تکلیف یا احساس لیے تمہاری چوکھٹ پر دکھائی دوں گا ، نہ ہی تمہیں اپنا مرہم ہی سمجھوں گا۔ ۔ ۔مگر۔ ۔ ۔تم ہر پل میرے وجود میں میرے روح و قلب کے محور رہو گے ۔ ۔ ۔کبھی مجھ سے الگ نہ ہو گے۔ ۔ ۔اسی نہ محسوس ہونے والے شدت درد کے ساتھ، ان آنسوؤں کے ساتھ جو بہت مگر دکھائی نہ دیے ، اس جلے ہوئے راکھ ہوئے وجود کیساتھ ۔ ۔ ۔آج تمہیں الوداع کر رہا ہوں میں ۔ ۔ ۔اب میں خود کو خود میں دفن کر رہا ہوں کہ نہ محبت۔ ۔ ۔نہ خواہش۔ ۔ نہ طلب۔ ۔ ۔نہ چاہت اب کچھ نہیں میرے پاس۔ ۔ ۔سوائے اپنی اس ‘ ہونے کی عادت’ کے جس سے رہائی کامنتظر میں کھڑا ۔ ۔ ۔خود کو خود سے دستبردار کر رہا ہوں میںتمہیں الوداع کر رہا ہوں ۔ ۔ ۔۔ ۔ ۔ تحریر و آواز—فائزہ عباس
میں تمہیں الوداع کر رہا ہوں تحریر و آواز— فائزہ عباس

میں ۔تمہیں الوداع کر رہا ہوں تحریر و آوازفائزہ عباس

میں ۔تمہیں الوداع کر رہا ہوں تحریر و آواز – – – – فائزہ عباس کبھی کبھی ۔ ۔ ۔ساتھ چلنے والے بھی اجنبی ہوتے ہیں ناں۔ ۔ ۔کبھی آنسان کب کے الوداع کہ چکے ہوتےہیں ۔ ۔ ۔کبھی ہم ساتھ چلنے والوں کو اجنبیت کے وہ گھونٹ امرت سمجھکر پلاتے چلے جاتے ہیں کہ جو ان سے زندگی چھین لیتے ہیں اور خالی وجود بوسیدہ اور دفنانے لائق رہ جاتے ہیں ۔ ۔ ۔کبھی کبھی کچھ بھی نہیں چاہییے ہوتا ۔ ۔ ۔اور کبھی کچھ بھی نہیں بچتا۔ ۔ کبھی ہم رفتہ رفتہ ختم ہو جاتے ہیں بالکل ایسے ہی جیسے کوئی مرنے والا رسی کے آخری سرے کو پکڑے مگر وہ گرفت کھودے ۔ ۔ ۔اور پھر اس کھائی میں جا گرے جہاں پر سے واپسی ہی ممکن نہ ہو شاید کہیں نہ کہیں ۔ ۔ ۔یہ سفر وہ ہی تھا جو اسکا آخری سفر تھا جسکے بعد اور سفر کی طلب تھی نہ خواہش ۔ ۔ ۔ ۔نہ ہںی تمنا نہ آرزو کی جھوٹی ڈوریاں۔ ۔ ۔ ہی درکار تھیں ۔ ۔ ۔میں سب کو مکمل توڑے جارہاں ہوں ۔ ۔ ۔ یہ کہتے کہتے وہ سوچ کے سمندر میں جیسے بہ سا گیا ۔ ۔ ۔اور جب انسان اس کے آخری گھونٹ پی چکے تو پھر نہ وہ آخری ہچکی سنائی دیتی ہے نہ ہی آخری سسکی ۔ ۔ ۔اور نہ ہی وہ آخری آنسو جو مرنے والے کی آنکھوں سے ٹپک سا جاتا ہے ۔ ۔ ۔ جس ایک آنسو میں بہت سے احساس ۔ ۔ ۔اور کرب جمع تھے مگر اس درد کی کیفیت کوئی جان نہ سکا ۔ ۔ ۔جب احساس کو کفن پہنا دیے جاتے ہیں اور روح خود دستبردار ہو جاتی ہے ہر اس وجود سے جو کبھی اسکا مسکن تھے تو کھونے والوں کو کھونے تک کا احساس نہیں ہوتا اور وہ سفر کی آخری ملاقات کو زندگی سمجھ لیتے ہیں ۔ ۔ ۔انسان بھی اکثر اپنوں کو ایسے ہی کھو دیتے ہیں کہ انہیں پتہ ہوتا کہ وہ کسے کب کتنی دور نکل آئے ہیں ۔ ۔ ۔اتنی دور کہ اس کی طوالت عبور نہیں ہو سکتی اور بس دور ہی سے دھندلی جھلک دکھائی دیتی ہے جس کی سمجھ نہیں آتی کہ وہ عکس تھا کہ حقیقت۔ ۔ ۔آج تمہیں بھی الوداع کر رہا ہوں اسی احساس کے ساتھ کہ شاید پھر ہم نہیں مل پاییں، نہیں سن پائیں ، نہیں دیکھ پائیں ۔ ۔ ۔مگر تمہارے سب احساس میں خود میں جذب کیے جا رہا ہوں تم کبھی مجھ سے جدا نہیں ہو گے ۔ ۔تمہارا ہر احساس، ہر جھلک، ہر بھلائی، ہر احسان، مجھ پر تمہارے قرض ہیں جنہیں میں چکا تو نہیں سکتا مگر میں انہیں بہت محبت سے کسی انمول اعزاز کی طرح سنبھال کر رکھوں گا۔ ۔ ۔تم جب بھی بلاؤ گے خود کے پاس پاو گے مگر مجھے تمہارے پاس اب نہ دیکھ پاؤ گے کہ میرے تمہارے سفر کے ربط و تعلق کی ڈوریاں بس اتنی تھیں کہ ہم یہاں تک ایک ساتھ ۔ ۔ ۔چل کر آگئے ۔ ۔ ۔اب آگے کا سفر مجھے تنہا ہی طے کرنا ہے بغیر کسی کی مدد اور سہارے کے ۔ ۔ ۔میں تمہیں کبھی اپنی مدد کے لیے اب نہیں پکاروں گا۔ ۔ ۔نہ کبھی اپنی کوئی تکلیف یا احساس لیے تمہاری چوکھٹ پر دکھائی دوں گا ، نہ ہی تمہیں اپنا مرہم ہی سمجھوں گا۔ ۔ ۔مگر۔ ۔ ۔تم ہر پل میرے وجود میں میرے روح و قلب کے محور رہو گے ۔ ۔ ۔کبھی مجھ سے الگ نہ ہو گے۔ ۔ ۔اسی نہ محسوس ہونے والے شدت درد کے ساتھ، ان آنسوؤں کے ساتھ جو بہت مگر دکھائی نہ دیے ، اس جلے ہوئے راکھ ہوئے وجود کیساتھ ۔ ۔ ۔آج تمہیں الوداع کر رہا ہوں میں ۔ ۔ ۔اب میں خود کو خود میں دفن کر رہا ہوں کہ نہ محبت۔ ۔ ۔نہ خواہش۔ ۔ نہ طلب۔ ۔ ۔نہ چاہت اب کچھ نہیں میرے پاس۔ ۔ ۔سوائے اپنی اس ' ہونے کی عادت' کے جس سے رہائی کامنتظر میں کھڑا ۔ ۔ ۔خود کو خود سے دستبردار کر رہا ہوں میں ۔ ۔ ۔تمہیں الوداع کر رہا ہوں

Publiée par Pothwar News Network sur Vendredi 7 décembre 2018

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں