asad-umer 26

وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر

وفاقی وزیر خزانہ اسدعمر نے کہا کہ آئی ایم ایف کے ساتھ پاکستان کا یہ آخری پروگرام ہو گا
معیشت کے بنیادی ڈھانچے کو درست کرنے کے لیے کوشاں ہیں،
موجودہ حکومت کے مثبت اقدامات اور موثر پالیسیوں کی بدولت آئندہ آنے والی حکومت کو آئی ایم ایف کے پاس نہیں جانا پڑے گا
اسلام آباد ۔ (پی این این ) وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر نے کہا ہے کہ پاکستان کے لیے بیل آﺅٹ پیکج ناقابل قبول تھا لیکن ماہرین معیشت کے مطابق ملکی معیشت کو ٹریک پر واپس لانے کے لیے آئی ایم ایف پیکج ناگزیر ہے، انتخابات سے پہلے بھی ہمارا یہی بیانیہ تھا، گزشتہ حکومتوں کی غلط اور ناقص معاشی پالیسیوں اورکرنٹ اکاﺅنٹ خسارے کی وجہ سے آئی ایم ایف کے پاس جانا پڑا، 2013ءمیں اسمبلی فلور پر بھی کہا کہ آئی ایم ایف جانے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں کیونکہ ملکی حالات ہی بہت خراب تھے، آج تک کسی بھی حکومت نے پہلے 2 ماہ میں آئی ایم ایف سے کوئی معاہدہ نہیں کیا کیونکہ آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدے کے لیے وقت درکار ہوتا ہے، ہم آئی ایم ایف سمیت دیگر آپشنز کو بھی دیکھ رہے تھے، 20 اگست کو میرے بطور وزیر خزانہ حلف اٹھانے کے پانچ ہفتے بعد آئی ایم ایف کی ٹیم یہاں پاکستان میں موجود تھی، موجودہ حکومت کے مثبت اقدامات اور موثر پالیسیوں کی بدولت آئندہ آنے والی حکومت کو آئی ایم ایف کے پاس نہیں جانا پڑے گا، آئی ایم ایف کے ساتھ پاکستان کا یہ آخری پروگرام ہو گا، دسمبر 2017ءسے روپے کی قدر میں مسلسل کمی ہوئی، معیشت کے بنیادی ڈھانچے کو درست کرنے کے لیے کوشاں ہیں، معیشت کا بنیادی ڈھانچہ ٹھیک ہوگا تو روپے کی قدر مستحکم ہو گی، امریکہ اور چین کی تجارتی جنگ سے خطہ متاثر ہو سکتا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پاکستان ٹیلی ویژن سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں