president-ajk 60

پاکستان اور آزادکشمیر کا رشتہ اٹوٹ انگ ہے

پاکستان اور آزادکشمیر کا رشتہ اٹوٹ انگ ہے
ہندوستان پرامن طریقے سے بات چیت کے ذریعے اس مسئلے کو حل نہیں کرنا چاہتا

برطانیہ اور یورپ میں آزادکشمیر اور پاکستان کے تارکین وطن کا برطانیہ اور یورپ کی سیاست اور معیشت میں کلیدی کردار ہے اور ان کی آواز انتہائی موثر ہےبرطانیہ اور یورپ کریس ریسلے کی قیادت میں حالیہ دورہ بے حد اہمیت کا حامل ہے
طے شدہ ملاقات کی ہندوستان کی طرف سے منسوخی اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ ہندوستان گفت وشنید اور ڈائیلاگ کے ذریعے اس مسئلے کا حل نہیں چاہتا
ممبران برطانوی پارلیمنٹ نے میر پور بار ایسوسی ایشن کی جانب سے منعقد کی گئی تقریب سے بھی خطاب

ajk-president
میر پور (پی این این ) صدر آزاد جموں وکشمیر سردار مسعود خان نے کہا ہے کہ ہندوستان اپنے ظلم و استبداد کے ذریعے کشمیریوں کے جذبہ حریت کو کبھی کچلنے میں کامیاب نہیں ہو گا۔ اور کشمیری اپنا پیدائشی اور بنیادی حق ، حق خودارادیت لے کر دم لیں گے۔ تارکین وطن ہمارا سرمایہ ہیں ۔ بیرسٹر عمران حسین ممبرہائوس آف کامن برطانیہ اور لارڈ قربان حسین ایم پی اور ان کے ساتھیوں کو آزادکشمیر آمد پر دل کی عمیق گہرائیوں سے خوش آمدید کہتے ہیں۔
ان خیالات کا اظہار صدر آزاد جموں سردار مسعود خان نے میر پور یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی میںکشمیر پرمنعقدہ گول میز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ اس کانفرنس سے ممبران برطانوی پارلیمنٹ بیرسٹر عمران حسین، لارڈ قربان حسین ، راجہ نجابت حسین چیئرمین جموں وکشمیر تحریک حق خودارادیت انٹرنیشنل، وائس چانسلر میر یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر حبیب الرحمن اور کونسلر بیرسٹر کامران حسین نے خطاب کیا۔
صدر مسعود خان نے کہا کہ برطانوی پارلیمنٹ کے اندر کل جماعتی پارلیمانی گروپ آف کشمیر (APPKG)کا قیام مسئلہ کشمیر کے حل کی جانب سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ APPGبرطانیہ اور یورپ کریس ریسلے کی قیادت میں حالیہ دورہ بے حد اہمیت کا حامل ہے ۔ اس گروپ کے ممبران مسئلہ کشمیر پر حقائق پر مبنی ایک جامع رپورٹ تیار کر رہے ہیں جو وہ برطانوی اور یورپین پارلیمنٹ میں پیش کریں گے اور اس رپورٹ کے مندرجات پر برطانوی اور یورپین پارلیمان میں بحث ومباحثہ ہوگا ۔ جس سے مسئلہ کشمیر بین الاقوامی سطح پراجاگر ہو گا۔ صدر نے بیرسٹر عمران حسین ایم پی کو کشمیر کاز کے لئے ان کی طرف سے برطانوی پارلیمنٹ کے اندر اور باہر کی جانے والی ان خدمات کو سراہا۔ صدر نے کہا کہ بیرسٹر عمران نے مسئلہ کشمیر پر انتہائی متحرک کردار ادا کیا۔ صدر سردار مسعود خان نے کہا کہ برطانوی ہائوس آف لارڈز میں ایک سال میں پانچ مرتبہ کشمیر ایشو کو اٹھانے پر لارڈ قربان حسین کا شکریہ ادا کیا۔
سردار مسعود خان نے اپنے خطاب میں زور دیتے ہوئے کہا کہ اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کے کمیشن کی حالیہ رپورٹ کے مطابق ہندوستان کو مقبوضہ کشمیر میں بلا تاخیر حق خودارادیت کا انعقاد کرانا چاہیے۔ اور پبلک سیفٹی ایکٹ اور آرمڈ فورسز سپیشل پاور ایکٹ جیسے کالے قوانین کا فی الفور خاتمہ کرنا چاہیے۔ اوررپورٹ کے مطابق مجوزہ انکوئری کمیشن کے قیام پر فوراً رضامندی ظاہر کرنی چاہیے تاکہ یہ انکوائری کمیشن کشمیر کے دونوں اطراف جا کر انسانی حقوق سے متعلق حقائق جان سکے۔ انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے نئے کمشنرمسز میچل بیچلٹ نے بھی مسئلہ کشمیر پر بڑا جاندار بیان دیا ہے۔
سردار مسعود خان نے کہا کہ ہندوستان پرامن طریقے سے بات چیت کے ذریعے اس مسئلے کو حل نہیں کرنا چاہتا ۔ اور ابھی کل ہی پاکستان اور بھارت کے وزراء خارجہ کی سائیڈ لائن پر طے شدہ ملاقات کی ہندوستان کی طرف سے منسوخی اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ ہندوستان گفت وشنید اور ڈائیلاگ کے ذریعے اس مسئلے کا حل نہیں چاہتا۔ صدر نے کہا کہ ہندوستان میں کچھ جنونی قوتیں ہندوستانی حکومت کو دبائو میں لاکر طاقت کے ذریعے مسئلہ کشمیر کو حل کرنا چاہتی ہیں جو انتہائی تشویشناک اور خوفناک امر ہے۔ صدر نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی قتل و غارت کا بازار گرم ہے اور حالیہ دنوں میں درجنوں پرامن کشمیریوں کو مقبوضہ کشمیر کے مختلف علاقوں میں سفاکی کے ساتھ شہید کر دیا گیا۔ وہاں خواتین کی آبروریزی کی جاتی ہے اور بلا تخصیص بوڑھے ، بچے اور جوانوں کو تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے ، بلا جواز گرفتاریاں عمل میں لائی جاتی ہیں لیکن ان سب کے باوجود ہمیں سفارتکاری کے دامن کو نہیں چھوڑنا چاہیے اور مذاکرات کی مدد سے پوری دنیا کو اس مسئلے کی سنگینی کا احساس دلواتے ہوئے ہندوستان پر دبائو ڈلوانے کی کوشش کرنی چاہیے کہ وہ کشمیریوں کو جلد از جلد ان کے پیدائشی حق خودارادیت کو دینے کے فوراً اقدامات کرے۔
صدر مسعود خان نے کہا کہ انہیں یقین ہے کہ بیرسٹر عمران حسین برطانوی ہائوس آف کامن میں اپنی آواز اٹھاتے رہیں گے۔ اور اپنے موجودہ دورے کے بعد وہ برطانوی پارلیمان کو اپنے دورے کے مشاہدات اور تحقیقات سے آگاہ کریں گے۔ سردار مسعود خان نے کہا کہ برطانیہ اور یورپ میں ہمارے تارکین وطن پاکستان اور آزادکشمیر کا قیمتی سرمایہ ہیں ۔ انہیں چاہیے کہ وہ پاکستان اور آزادکشمیر میں سرمایہ کاری کریں تاکہ یہاں کی معیشت کو استحکام ملے ۔ صدر نے کہا کہ آزادکشمیر کی سرکاری جامعات کو مزید دوام اور ترقی دینے کے لئے بھی تارکین وطن اپنا کردار ادا کریں۔ صدر مسعود نے میر پور یونیورسٹی میں کشمیر کانفرنس کے کامیاب پر ڈاکٹر حبیب الرحمن کا شکریہ ادا کیا۔ کانفرنس کے اختتام پر سوالات و جوابات کا سلسلہ بھی شروع ہوا۔ اور صدر آزادکشمیر اور ممبران پارلیمنٹ مختلف سوالات کے جوابات بھی دئیے۔
بعد ازیں صدر گرامی اور ممبران برطانوی پارلیمنٹ نے میر پور بار ایسوسی ایشن کی جانب سے منعقد کی گئی تقریب سے بھی خطاب کیا۔ جس کی صدارت بار ایسوسی ایشن میر پور کے صدر عبدالعزیز چوہدری ایڈووکیٹ نے کی۔ اس تقریب میں بار ایسوسی ایشن میر پور کے وکلاء کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔ صدر مسعود خان نے اپنے خطاب میں کہا کہ برطانیہ اور یورپ میں آزادکشمیر اور پاکستان کے تارکین وطن شروع میں معاشی و سیاسی طور پر اتنے مستحکم نہیں تھے لیکن اب ان کا برطانیہ اور یورپ کی سیاست اور معیشت میں کلیدی کردار ہے اور ان کی آواز انتہائی موثر ہے۔ صدر نے کہا کہ برطانیہ کہ گزشتہ انتخابات میں 12ممبرپارلیمنٹ پاکستان اور آزادکشمیر ریجن سے ہیں ان کا منتخب ہو جانا ہمارے لئے انتہائی خوشی اور اطمینان کا باعث ہے۔ یہ تمام منتخب نمائندگان کشمیر کاز کے لئے دل و جان سے کام کرتے ہیں۔ اور ہمارا قیمتی سرمایہ ہیں۔ اور ہمیں ان پر فخر ہے۔ صدر نے کہا کہ پاکستان اور آزادکشمیر کا رشتہ اٹوٹ انگ ہے۔ پاکستان کے لوگ کشمیریوں سے محبت کرتے ہیں اور مقبوضہ کشمیر میں شہید ہونے والوں کو پاکستانی پرچم میں دفن کیا جاتا ہے۔ وہاں کے گلی کوچوں سے یہ صدا بلند ہوتی ہیں ’’کہ ہم پاکستانی ہیں پاکستان ہمارا ہے‘‘ ۔ صدر ریاست نے آزادکشمیر میں تعمیر ہونے والے مختلف ڈیمز کے حوالے سے اٹھانے گے نکات پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم آزادکشمیر راجہ فاروق حیدر خان نے آپ کے تحفظات سے مرکزی حکومت کو آگاہ کرنے کے لئے اور سابقہ معاہدات پر عملدرآمد کروانے کے لئے وقت مانگا ہے۔ سردار مسعود خان نے کہا کہ خود ہندوستانی فوج کے اپنے جنرل کے بیان کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں صرف 150جنگجو ہیں جن کا مقابلہ کرنے کے لئے ہندوستان کی 7لاکھ فوج مقبوضہ کشمیر میں تعینات ہے۔ صدر نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں جنگجو نہیں آزادی پسند لوگ رہتے ہیں جو پرامن طریقے سے اپنی سیاسی جدوجہد کو جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ وہ حق خودارادیت کے حصول کو ممکن بنا سکیں۔

انہوں نے کہا کہ آرٹیکل 35اے کو ہندوستان کی طرف سے سیاسی طریقے سے ختم کرنے کی کوششیں کی گئیں لیکن ایسا نہیں ہو سکا۔ اب ہندوستان عدالتی کارروائی کے ذریعے اس آرٹیکل کو منسوخ کرنا چاہتاہے۔ صدر نے کہا کہ ایک طرف بھارتی مقبوضہ کشمیر میں ہمارے بہن بھائی بے بسی، لاچارگی کی زندگی گزار رہے ہیں اور ان کو آئے روز شہید کیا جا رہا ہے جب کہ کشمیر کی اس جانب آزاد کشمیر کا خطہ انتہائی پرامن خطہ ہے جہاں جرائم کی شرح سب سے کم ہے ۔ اور یہاں انسانی حقوق کی مکمل پاسداری کی جاتی ہے۔ صدر نے برطانیہ اور یورپین پارلیمنٹ میں قائم APPGکے موجودہ وفد کی ممبر انتھیامیکن ٹائر نے کہا کہ مسئلہ کشمیر صرف ہندوستان پاکستان اور کشمیریوں کا مسئلہ نہیںبلکہ یہ پوری دنیا کا مسئلہ ہے۔ صدر نے کہا کہ یہ انتہائی خوش آئند بات ہے کہ آنے والے دنوں میں یورپین پارلیمنٹ میں کشمیر کانفرنس ہونے جا رہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ یہ امر بھی خوش آئند ہے کہ APPGاپنی رپورٹ کو مکمل کرتے ہوئے اسے جلد برطانوی اور یورپی پارلیمان میں پیش کرے گی ۔ جس کے بعد اس پار ڈیبیٹ ہو گا۔وکلاء کی اس خصوصی تقریب سے بیرسٹر عمران حسین ایم پی، لارڈ قربان حسین اور بار ایسوسی ایشن کے صدر عبد العزیز چوہدری نے بھی خطاب کیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں