President AJK 40

ڈاکٹر منان وانی شہید کو خراج عقیدت

ڈاکٹر منان وانی شہید کو خراج عقیدت صدر آزاد جموں و کشمیر سردار مسعود خان
ھارت نے ظلم و بربریت کی تمام حدود کو پار کر لیا ہے اور کشمیر کے نہتے اور بے گناہ انسانوں کو اپنے حق مانگنے کی پاداش میں زندہ رہنے کے حق سے بھی محروم کیا جا رہا ہے
دھلی کے حکمران کو جان لینا چاہیے کہ وہ ایک وانی کو گرائیں گے تو سو اور وانی پیدا ہو جائیں گے
مظفرآباد (پی این این)صدر آزاد جموں و کشمیر سردار مسعود خان نے عظیم کشمیری حریت پسند ڈاکٹر منان وانی شہید کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ دھلی کے حکمران کو جان لینا چاہیے کہ وہ ایک وانی کو گرائیں گے تو سو اور وانی پیدا ہو جائیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ بھارت نے ظلم و بربریت کی تمام حدود کو پار کر لیا ہے اور کشمیر کے نہتے اور بے گناہ انسانوں کو اپنے حق مانگنے کی پاداش میں زندہ رہنے کے حق سے بھی محروم کیا جا رہا ہے ۔ اتوار کے روز اپنے ایک بیان میں سردار مسعود خان نے کہا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں موت اور تباہی کے نہ ختم ہونے والے بھیانک کھیل نے عام نوجوانوں کے ساتھ ساتھ ڈاکٹر منان وانی جیسے اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوان کو بھی یہ سوچنے پر مجبور کر دیا کہ مقبوضہ ریاست جموں و کشمیر میں آزادی کے ساتھ رہنا ہے یا شہادت کو قبول کرنا ہے۔ بھارتی قابض فوج کے ہاتھوں جام شہادت نوش کرنے والے آزادی کی تحریک کے نوجوان ہیرو منان وانی کی شہادت کو اہل کشمیر کے لیے نا قابل تلافی نقصان قرار دیتے ہوئے صدر آزاد کشمیر نے کہا کہ کشمیر کے نوجوانوں کو بھارت کے استعماری جبر نے دیوار کے ساتھ لگا دیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ مجید وانی سے لے کر برہان مظفر وانی اور اب ڈاکٹر منان وانی تک آزادی و حریت کے عظیم جذبوں اور باوقار موت کی ایک ایسی عظیم داستان ہے جو کشمیر کے نوجوان کے جذبوں کو مہمیز اور تازگی بخشتی رہے گی ۔ ڈاکٹر منان وانی کی شہادت کو نا قابل فراموش قرار دیتے ہوئے صدر سردار مسعود خان نے کہا کہ ڈاکٹریٹ کی ڈگری رکھنے والے اس اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوان کی شہادت نے ایک بار پھر یہ ثابت کر دیا کہ کشمیر میں جاری تحریک جائز ، منصفانہ اور عالمی اُصولوں کے مطابق ہے ا ور اس کا دہشت گردی سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں زیر تعلیم کشمیری طلبہ کو منان وانی کی غائبانہ نماز جنازہ ادا کرنے کے جرم کی پاداش میں یونیورسٹی سے معطل کر کے اُن کے خلاف غداری کا مقدمہ درج کرنے کے اقدام کی پر زور مذمت کرتے ہوئے صدر آزاد کشمیر نے کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ بھارت کے حکمران اپنا ذہنی توازن کھو بیٹھے ہیںاور مسلسل ایسے اقدامات کر رہے ہیں جو خود بھارت کے اپنے آئین اور بانیان ہند کے اُصولوں کے منافی ہیں۔ صدر آزاد کشمیر نے مذید کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ بھارت کے حکمران ہوش کے ناخن لیں اور مقبوضہ ریاست جموں و کشمیر کے عوام کو اُن کا جائزہ اور انصاف پر مبنی حق خود ارادیت دیں ۔ کمیو نسٹ پارٹی آف انڈیا(مارکسٹ) کے سیکرٹری جنرل سیتا رام یچوری کے اس بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے جس میں انہوں نے کشمیر کے حوالے سے بھارتی پالیسی کو شیطانی قرار دیتے ہوئے کہا کہ کشمیری بھارت سے مکمل طور پر لا تعلق ہو چکے ہیں ۔ صدر آزاد کشمیر نے کہا کہ بھارتی حکمرانوں کو خود بھارت کے اندر سے اُٹھنے والی سنجیدہ آوازوں کو سننا چاہیے اور کشمیری عوام کو اُن کاجائز حق فوری طور پر دے کر خطہ میں امن و آشتی کی راہ ہموار کرنی چاہیے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں