kallar-syedan-horn 30

کلرسیداں اندرون شہر میں پریشر ہارن کے بے جا استعمال نے ڈپریشن کے مریضوں میں اضافہ کر دیا

کلرسیداں اندرون شہر میں پریشر ہارن کے بے جا استعمال نے ڈپریشن کے مریضوں میں اضافہ کر دیا
شہری بڑی بسوں ، ٹیوٹا ہائی ایس،سکول وین اور کیری ڈبوں کے خوفناک آواز والے ہارن سننے پر مجبور ہیں
ٹریفک پولیس کی عدم توجہی سے شہر میں پریشر ہارن کے استعمال نے شہریوں کی زندگیاں اجیرن بنا دی ہیں
شہریوں نے بتایا کہ ہارن اس قدراونچی آواز اور خوفناک ہوتے ہیں کہ بچے ،معمر افراد اور خواتین تک ڈر جاتی ہیں
کلرسیداں اندرون شہر و گردونواع میں پریشر ہارن کے بے جا استعمال نے ڈپریشن کے مریضوں میں حیرت انگیر اضافہ کر دیاہے۔ شہری بڑی بسوں ، ٹیوٹا ہائی ایس،سکول وین اور کیری ڈبوں کے خوفناک آواز والے ہارن سننے پر مجبور ہیں ،جس سے نہ صرف انکی سماعتیں اور اعصاب متاثر ہورہے ہیں بلکہ ذہنی امراض میں مبتلا ہونے لگے ہیں۔ ٹریفک پولیس کی عدم توجہی سے شہر میں پریشر ہارن کے استعمال نے شہریوں کی زندگیاں اجیرن بنا دی ہیں گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں پر لگے پریشر ہارن کیوجہ سے ڈپریشن کے مریضوں کی تعداد بڑھنے میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔ شہریوں نے بتایا کہ ہارن اس قدراونچی آواز اور خوفناک ہوتے ہیں کہ بچے ،معمر افراد اور خواتین تک ڈر جاتی ہیں مگر ٹریفک پولیس انکے خلاف کسی بھی قسم کی کارروائی کرنے سے گریزاں ہے۔شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ بسوں ، ٹرکوں ، ویگنوں ، موٹرسائیکلوں ، کاروں ، ٹریکٹروں وغیرہ پر نصب پریشر ہارن کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے اور ان میں نصب پریشر ہارن کو اتارنے کی مہم چلائی جائے۔

کیٹاگری میں : صحت

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں